مسلم اور غیر مسلم تمام برادرانِ وطن سے شرکت کی درخواست :آل انڈیا امامس کونسل
نئی دہلی، 15جون؍(آئی این ایس انڈیا)’’ فسطائیت کی بڑھتی غنڈہ گردی کے خلاف، سامراجیت کے کھلی دھاندلی کے خلاف ، ملک میں لاقانونیت کو فروغ دینے والوں کے خلاف، جمہوری اقدار کی دھجیاں اُڑانے والوں کے خلاف اور آر ایس ایس کی کھلے عام غیر قانونی ہتھیار کی ٹریننگ کے خلاف۔ مسلمانوں کو دشمن کی شکل میں پیش کرنے والوں کے خلاف۔تمام مکاتب فکر کے علماء و ائمہ، مقتداء و رہنما اور مسلم وغیر مسلم تمام جمہوریت دوست برادرانِ وطن لیڈران کے اتحاد کے ساتھ فاشسٹ فورس مخالف اہم متحدہ احتجاج،۱۶؍جون،بمقام : جنتر منتر ، صبح : ۳۰: ۹ بجے، ہوگا۔ مطالبات: ’’مسلم مکت بھارت‘‘کی بات کرنے والوں کو قانونی سزا دی جائے۔کھلے عام ہتھیار کی ٹریننگ دینے والوں کو ملک کا غدار قرار دے کر ان پر مقدمات چلائے جائیں۔غیر آئینی اور غیر جمہوری ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو فوراً سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے ۔ملک میں امن و سلامتی اور اتحاد و بھائی چارہ کو ختم کرنے والے پراچیوں، یوگیوں، سادھووں اور سنگھیوں کو قانونی سزا دی جائے۔ملک کی گنگاجمنی تہذیب کو فروغ دینے اور قومی یکجہتی کو عام کرنے کے لیے دستوری بالادستی کو بحال کیا جائے۔ملک میں ۱۰؍ ہزار سے زائد ہوئے فسادات کے مجرمین آر ایس ایس کے لیڈروں اور سنگھیوں کو پھانسی کی سزا دی جائے ۔آئی بی ، ایل آئی یو اور سی بی آئی اور اے ٹی ایس، کی تحقیقات کو غلط قرار دینے والے ’’این آئی اے‘‘ کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔حکومت جانب دارانہ رویہ اور بھگوا گروہ کی حمایت کو چھوڑ کر آئین کے مطابق ملک کو آگے بڑھائے۔مرکزی حکومت ملک کے گوشے گوشے میں دھاندلی، غنڈہ گردی،عدم رواداری اور غیر انسانی اقدامات کے روادار سنگھیوں پرقانونی کاروائی کرے۔کونسل کے نیشنل جنرل سکریٹری اورقومی ترجمان مفتی حنیف احرارؔ سوپولوی نے بتایا کہ : ’’آل انڈیا امامس کونسل کی رہنمائی میں ہو رہے اس متحدہ احتجاج میں تمام مکاتب فکر کے علماء، پیشوا، مسلم اور غیر مسلم تمام مذاہب کے ذمہ داران شرکت کر رہے ہیں۔ آل انڈیا امامس کونسل قومی جنرل سکریٹری نے کہا کہ : اس ’’متحدہ احتجاج‘‘ کو حکومت رسمی احتجاج نہ سمجھے۔ اگرحکومت اس پر فوری قدم نہیں اٹھاتی ہے توپھر امامس کونسل ملک کے تمام سواسو کروڑ سکولر، مسلم و غیر مسلم برادرانِ وطن کو ساتھ میں لے کرپورے ملک میں حکومتوں کے خلاف عدمِِِِِِِ اعتماد کی تحریک چلائے گی‘‘۔